بچے اور بچیوں کے ساتھ بھی زیادتیاں ہوتی ہیں. اس لیے خواتین کے تنگ لباس کا ان معاملات سے کوئی تعلق نہیں...
یہ وہ پروپیگنڈا ہے جو لبرل زور و شور سے پھیلاتے ہیں اور جو کوئی بھی پاکستان میں خواتین خصوصاً ایکٹریسز کے لباس پر تنقید کرتا ہے تو وہ ان کی تنقید کی زد میں آ جاتا ہے. کل امریکہ کے ایک معروف چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان صاحب نے جہاں اور مختلف ٹاپک پر بہت اچھی رائے دیں وہی پر انہوں نے کہا کہ خواتین کے مختصر لباس کا مردوں پر اثر پڑے گا ہی کیونکہ مرد مشین نہیں ہیں کہ جذبات سے خالی ہوں.
یہ بیان دینا تھا کہ پاکستان کے دیسی لبرلز نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا جس میں خان صاحب کے سیاسی مخالفین نے بھی خان صاحب کی ماضی کی تصاویر شئیر کر دیں اور منافقت کے طعنے دئیے. آئیں ہم اس ساری صورتحال پر تھوڑا سا تجزیہ کرتے ہیں.
دوستوں ہماری بدقسمتی ہے کہ ہماری قوم کے لیڈرز خواہ وہ سیاسی ہوں یا مذہبی، انہوں نے اپنے فالوورز کے دلوں میں دو بیج بو دیے ہیں. ایک بیج شخصیت پرستی کا. جس کی تاثیر یہ نکلی کہ سیاسی لیڈرز کے ماننے والوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ملکی حالات صرف نواز شریف، بھٹو یا خان صاحب ٹھیک کر سکتے ہیں (بندہ پوچھے کہ اگر خدانخواستہ یہ تینوں وفات پا جائیں تو پاکستان کا مقدر صرف تباہی ہو گا) اور مذہبی لیڈرز کے ماننے والے سمجھتے ہیں کہ ہمارے فرقے کے اکابر خطاؤں سے مبرا ہیں. اس لیے ان کے ماننے والوں کے سامنے ان کی کسی بات سے اختلاف کر دیں تو وہ اس شخص کو مارنے پر تیار ہو جاتا ہے یا کم از کم اس پر کفر و گستاخی کے فتوے پر اکتفا کرتا ہے. دوسرا بیج انہوں نے تعصب کا بویا ہے جس کی تاثیر یہ نکلی کہ ہم اپنے مخالف کی صحیح بات یا عمل کو جو قومی مفاد میں ہو اس کی بھی بے جا مخالفت کرتے ہیں اور یہ گمان کر لیتے ہیں کہ ان سے بھلائی ممکن ہی نہیں...
دوستوں اپنا محاسبہ کریں اگر آپ بھی ان بد عقیدت میں مبتلا ہیں تو اس سے چھٹکارا حاصل کریں اور یاد رکھیں کہ خطاؤں سے مبرا اور عیبوں سے پاک صرف ایک شخصیت ہیں اور وہ ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم! باقی انسان خوبیوں اور خامیوں کے مجموعے ہوتے ہیں. ان کی کسی بات سے اتفاق یا اختلاف آپ کا حق ہے. لیکن ہمیشہ حق کا ساتھ دیں اور حق وہی ہے جو اللہ کے رسول نے ہم تک پہنچایا....
اب آتے ہیں اصل موضوع پر...
دوستوں جنسی خواہش بھی بھوک کی طرح ہوتی ہے. معاشرے میں زنا کی ایک وجہ نہیں ہوتی بلکہ کئی وجوہات ہوتی ہیں. جن میں سے سرِفہرست دیر سے شادی، خواتین کے بے پردگی اور لڑکوں کی نامناسب تربیت ہے. اس میں کوئی شک نہیں کہ بچوں اور بچیوں سے زیادتی کے کیسز سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صرف خواتین کی بے پردگی زنا کا موجب نہیں لیکن یہ بات درست نہیں کہ شارٹ ڈریسز کا کوئی نیگیٹو امپیکٹ معاشرے پر مرتب نہیں ہوتا. سائکولوجیکلی بھی جب آپ شہوت انگیز لباس پہن کر گھومیں گی تو ایسا ممکن ہی نہیں کہ مرد کے تخیلات پر منفی اثر نہ ہو!
اور یہ باتیں تو غیر مسلموں کو سمجھانی چاہیں مسلمان خواتین اور مردوں کے لئے تو قرآنی حکم ہی کافی ہونا چاہیے کہ دونوں پردہ کریں. مرد اپنی آنکھوں کی حفاظت کرے. اس حکم کے آگے تو کوئی تاویل ہی پیش نہیں کرنی چاہیے کیونکہ جب آپ نے یہ مان لیا کہ اللہ تعالیٰ معبود برحق ہے تو حکم بھی اسی کا چلے گا.
باقی عمران خان کی ماضی کی زندگی کی بات کریں تو وہ خود اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ 1996 سے پہلے والا عمران گمراہ اور مذہب سے دور تھا. سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر اس نے جس پلیٹ فارم پر یہ پیغام دیا ہے اس پیغام کی سپورٹ لازمی کرنی چاہیے.
آخر میں میری ذاتی رائے ہے کہ حکومت وقت کو فوراً ان بے حیا چینلز اور فنکاروں کے خلاف ایکشن لینا چاہیے جو ہمارے معاشرے کی نوجوان نسل کو گمراہ کر رہے ہیں اور ایک ذہنی ہیجان پیدا کر دیتے ہیں جس سے نوجوانوں کی زندگی کا مقصد صرف نمائش اور نفسی خواہشات کی اتباع بن جاتا ہے. اللہ تعالیٰ ہمیں اس فتنے سے بچائے آمین!
No comments:
Post a Comment